Safety & Compliance

نجی اسکولوں کے لیے فائر سیفٹی قوانین: سندھ، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کا موازنہ (2026)

نجی اسکولوں کے لیے فائر سیفٹی قوانین: سندھ، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کا موازنہ (2026)

ایک ہی سال کے دو سانحات اور اسکول مالکان کے لیے ایک سوال

26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ وارڈ میں آگ لگی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وارڈ میں 15 نوزائیدہ بچے تھے، جن میں سے 14 جان کی بازی ہار گئے۔ اس سے پہلے، 17 جنوری 2026 کی رات کراچی کے گل پلازہ کی آگ میں ڈان کی رپورٹس کے مطابق 70 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، اور بعد کے حوالوں میں تعداد 80 بتائی گئی ہے۔ ہم تمام متاثرہ خاندانوں کے غم میں شریک ہیں۔

ان دونوں واقعات میں کوئی اسکول شامل نہیں تھا، لیکن ان کے بعد تین ریگولیٹرز نے نجی اسکولوں کو فائر سیفٹی کے احکامات دیے: سندھ میں DIRPI، اسلام آباد میں PEIRA اور خیبرپختونخوا میں KP-PSRA۔ ایک جگہ مہلت ختم ہونے پر سیل کرنے کی وارننگ بھی ہے۔ ہر جگہ تقاضے اور تاریخیں الگ ہیں، اور خبروں میں کچھ تفصیلات آپس میں مختلف بھی ہیں۔

اس مضمون میں ہم تینوں کا موازنہ کر رہے ہیں، صاف بتا رہے ہیں کہ کیا تصدیق شدہ ہے اور کیا نہیں، اور آخر میں پرنٹ ایبل چیک لسٹ دے رہے ہیں۔ معلومات 10 اکتوبر 2026 تک کی ہیں۔ پنجاب کے مالکان عمارت کی فٹنس کے سرٹیفکیٹ پر ہمارا مضمون بھی دیکھیں: پنجاب بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ گائیڈ

ریگولیٹرز نے سختی کیوں کی؟

ڈان کے مطابق گل پلازہ کے بعد SBCA نے کراچی میں فائر سیفٹی جانچ شروع کی، 266 عمارتوں کو نوٹس جاری ہوئے اور ناقص انتظامات والی عمارتوں کو سیل کرنے کی وارننگ دی گئی۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فائر ڈپارٹمنٹ کے جنوری 2024 کے آڈٹ میں گل پلازہ کے کئی حفاظتی شعبے "غیر تسلی بخش" درج تھے۔ آگ کی وجہ اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور سندھ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی والے کمیشن کا معاملہ ہے، اس لیے ہم کسی پر الزام نہیں لگا رہے۔ سبق یہ ہے کہ کاغذ پر انتظام اور اصل تیاری میں فرق جان لیوا ہو سکتا ہے۔

پمز کے بعد 31 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست سنی گئی، جس میں تمام عمارتوں کے فائر آڈٹ اور بغیر NOC عمارتیں سیل کرنے کی استدعا ہے۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ کئی تجارتی، تعلیمی اور طبی عمارتیں فائر NOC کے بغیر چل رہی ہیں۔ یہ دعویٰ ہے؛ عدالت نے فیصلہ نہیں دیا اور اداروں سے جواب مانگا ہے (APP)۔

سندھ: DIRPI کا نوٹیفکیشن اور PDMA آڈٹ

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق DIRPI نے 26 جنوری 2026 کے نوٹیفکیشن میں یہ اقدامات لازمی کیے، اور پمز کے بعد اگست کے آخر میں یاد دہانی جاری ہوئی۔ مختلف رپورٹس ملا کر بنیادی تقاضے یہ ہیں:

  • ہر منزل اور اہم مقامات پر فائر الارم، سموک ڈیٹیکٹر اور ایکسٹنگوئشر، جن کی باقاعدہ جانچ اور سروس ہو۔
  • ہنگامی دروازے، سیڑھیاں اور فرار کے راستے کھلے، نشان زد، روشن اور رکاوٹوں سے پاک ہوں۔
  • انخلا کے منصوبے اور منزل کے نقشے کلاس رومز، راہداریوں اور سیڑھیوں میں آویزاں ہوں۔
  • انخلا کی ڈرلز ہوں اور ریکارڈ میں تاریخ، مشاہدات اور اصلاحی کارروائی درج ہو۔
  • عملے کو فائر ردعمل، انخلا اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جائے۔
  • بجلی کی وائرنگ اور سوئچ بورڈز کا معائنہ ہو؛ ProPakistani کے مطابق لیبارٹری، کچن اور جنریٹر روم بھی شامل ہیں۔
  • اسمبلی پوائنٹ مقرر ہو اور بچوں کے معاون انخلا کا انتظام ہو۔
  • درست safety certificates اور معائنے کا ریکارڈ تصدیق کے لیے موجود ہو۔

ڈرل: دو بار یا تین بار؟

ایکسپریس ٹریبیون، ڈان، جنگ اور منٹ مرر کے مطابق ڈرل کم از کم سال میں دو بار ہے؛ ProPakistani نے اپنی دونوں خبروں میں "تین بار" لکھا۔ ہم اصل مراسلہ نہیں دیکھ سکے، اس لیے دو کو بنیادی تقاضا سمجھیں۔ تین ڈرلز کر لینا کم خرچ احتیاط ہو سکتی ہے، مگر یہ ہماری تجویز ہے۔ حتمی تصدیق DIRPI سے کریں۔

19 ستمبر کا آڈٹ اور سرٹیفکیٹ کا سوال

ProPakistani کے مطابق سندھ حکومت اسکول عمارتوں کے فائر آڈٹ کا ڈیٹا PDMA کے ویب پیج پر اپ لوڈ کرے گی، اور اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک ڈپٹی سیکرٹری کو فوکل پرسن بنایا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ نجی اسکول شامل ہیں، آخری تاریخ کیا ہے، یا اسکولوں کو کوئی فارم بھرنا ہے۔

اسی طرح مراسلے میں "valid safety certificates" کا ذکر ہے مگر ادارے کا نام نہیں۔ سندھ سول ڈیفنس کی (بغیر تاریخ) ویب سائٹ کے مطابق وہ عمارتوں کا فائر معائنہ کر کے سرٹیفکیٹ دیتا اور اسکولوں کو تربیت فراہم کرتا ہے؛ لیکن نجی اسکولوں کے لیے یہی مطلوبہ سرٹیفکیٹ ہے یا نہیں، ہم تصدیق نہیں کر سکے۔ DIRPI سے پوچھیں۔

اسلام آباد: CDA کا سرٹیفکیٹ اور 15 دن کی مہلت

PEIRA نے 11 ستمبر 2026 کے نوٹیفکیشن میں اسلام آباد کے تمام نجی تعلیمی اداروں کو اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 کی پابندی کی ہدایت دی۔ ادارے CDA سے فائر اینڈ لائف سیفٹی کمپلائنس سرٹیفکیٹ/NOC لے کر 15 دن میں جمع کرائیں، ورنہ سیل کرنے سمیت کارروائی ہو سکتی ہے (ProPakistani، TechJuice، Bloom Pakistan)۔

مہلت پر اختلاف ہے: Bloom Pakistan نے نوٹیفکیشن کے حوالے سے "15 ورکنگ ڈیز" لکھا۔ ہمارے حساب سے 11 ستمبر سے 15 دن 26 ستمبر کو اور 15 ورکنگ ڈیز تقریباً 2 اکتوبر کو پورے ہوتے ہیں، یعنی دونوں صورتوں میں مدت گزر چکی ہے۔ توسیع یا کسی اسکول کے سیل ہونے کی تصدیق شدہ خبر ہمیں نہیں ملی۔ اگر آپ نے درخواست نہیں دی تو اسے ہنگامی کام سمجھیں۔

یہ مطالبہ مکمل طور پر نیا نہیں: ProPakistani (22 ستمبر 2023) کے مطابق CDA غیر موافق عمارتوں میں چلنے والے اسکولوں سے عمارتی استحکام اور فائر سیفٹی آلات کے سرٹیفکیٹ پہلے بھی مانگ چکی ہے۔

نفاذ کی تازہ خبر: ProPakistani (9 اکتوبر) کے مطابق CES نے ستمبر میں 154 آڈٹ کیے (زیادہ تر اسپتال) اور 92 احاطے سیل کیے، جن میں 78 دکانیں شامل تھیں۔ رپورٹ میں اسکولوں کا الگ ذکر نہیں، مگر سیلنگ عملی طور پر ہو رہی ہے۔

جو ہم تصدیق نہیں کر سکے: CDA سرٹیفکیٹ کی فیس، درخواست کا طریقہ اور مدت۔ یہ CDA کی Capital Emergency Services سے براہِ راست پوچھیں اور درخواست کی تحریری رسید لیں۔

خیبرپختونخوا: PSRA کا 5 مئی 2026 کا سرکلر

KP-PSRA کی نوٹیفکیشنز کی فہرست میں 5 مئی 2026 کا ایک سرکلر درج ہے، جس کا عنوان "Provision of fire safety measures defence training in private schools" ہے۔ PSRA کی ویب سائٹ نے ہماری خودکار رسائی روک دی اور کسی خبر میں اس کا متن نہیں ملا۔ اس لیے ہم نہیں بتا سکتے کہ اس میں کون سے آلات، ڈرل کی تعداد، مہلت یا سزا ہے، اور اندازے سے کچھ نہیں لکھ رہے۔

عملی بات: سرکلر PSRA کی فہرست سے خود ڈاؤن لوڈ کریں۔ ایک ثانوی ویب سائٹ پر شائع اگست 2024 کا PSRA مراسلہ اداروں کو سرکاری خط و کتابت کے لیے پورٹل باقاعدگی سے دیکھنے کو کہتا ہے۔ جب تک متن سامنے نہ آئے، سندھ اور اسلام آباد کی فہرست کو بینچ مارک بنانا سمجھداری ہے، مگر یہ ہماری تجویز ہے، KP کا قانونی تقاضا نہیں۔

رجسٹریشن بھی چیک رکھیں: 30 جولائی 2026 کو KP حکومت نے غیر رجسٹرڈ ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کی ڈی افلی ایشن کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی (ProPakistani)۔ تفصیل:رجسٹریشن اور فیس کی رول بک

تینوں کا موازنہ ایک نظر میں

"غیر تصدیق شدہ" کا مطلب ہے کہ ہمیں قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں ملا۔

پہلوسندھاسلام آبادخیبرپختونخوا
ریگولیٹرDIRPIPEIRA (سرٹیفکیٹ CDA سے)KP-PSRA
حکم کی تاریخ26 جنوری 2026؛ یاد دہانی اگست کے آخر میں11 ستمبر 20265 مئی 2026
بنیادی تقاضاہر منزل پر الارم، ڈیٹیکٹر، ایکسٹنگوئشر؛ کھلے راستے؛ انخلا کے نقشےCDA سے فائر اینڈ لائف سیفٹی سرٹیفکیٹ/NOCغیر تصدیق شدہ
ڈرلزکم از کم 2 سالانہ (ProPakistani: 3)ذکر نہیںغیر تصدیق شدہ
ریکارڈڈرل اور معائنے کا ریکارڈ، safety certificatesسرٹیفکیٹ/NOC PEIRA کو جمعغیر تصدیق شدہ
عملے کی تربیتلازمیذکر نہیںعنوان میں "defence training"؛ باقی غیر تصدیق شدہ
مہلت/سزا"کارروائی" کی وارننگ15 دن (ایک رپورٹ: 15 ورکنگ ڈیز)؛ سیلنگ کی وارننگغیر تصدیق شدہ
اضافی19 ستمبر: اسکول عمارتوں کا آڈٹ، PDMACES نے ستمبر میں 92 احاطے سیل کیےPSRA پورٹل دیکھیں
کھلا سوالکون سا سرٹیفکیٹ؟فیس، وقت، توسیع؟سرکلر کا متن

اپنی فائر سیفٹی فائل بنائیں (پرنٹ ایبل چیک لسٹ)

انسپکٹر آئے تو ریکارڈ کام آتا ہے۔ ایک فائل (کاغذی اور ڈیجیٹل) بنائیں اور ہر چیز پر تاریخ لکھیں۔ یہ فہرست رپورٹ شدہ تقاضوں اور عام احتیاط پر مبنی ہماری تجویز ہے؛ KP کے اسکول اسے سرکلر سے ملا لیں۔

☐آئٹمثبوت اور آخری جانچ کی تاریخ
☐فائر الارم اور سموک ڈیٹیکٹر، ہر منزل پرٹیسٹ اور سروس رپورٹ: ____
☐ایکسٹنگوئشر، ہر منزل اور کچن، لیب، جنریٹر روم میںتعداد اور ری فل/ایکسپائری: ____
☐ہنگامی دروازے، سیڑھیاں، فرار کے راستے (کھلے، نشان زد، روشن)معائنہ نوٹ اور تصاویر: ____
☐انخلا کا منصوبہ اور منزل کے نقشے آویزاںتصاویر: ____
☐اسمبلی پوائنٹ اور معاون انخلا کا منصوبہذمہ دار اساتذہ کے نام: ____
☐بجلی کی وائرنگ اور سوئچ بورڈز کا معائنہقابل الیکٹریشن/انجینئر کی رپورٹ: ____
☐انخلا کی ڈرلتاریخ، مدت، مشاہدات، اصلاحی کارروائی: ____
☐عملے کی تربیتحاضری شیٹ، سرٹیفکیٹ: ____
☐ریگولیٹر کا مطلوبہ سرٹیفکیٹ/NOCکاپی یا درخواست کی رسید: ____
☐عمارت کے کاغذات (منظور شدہ نقشہ، فائر پلان/کمپلیشن)کاپیاں؛ کرائے پر ہو تو مالک کا تحریری جواب: ____
☐ریگولیٹر کے احکامات کی تازہ کاپیپرنٹ اور تاریخ: ____
☐فائر سیفٹی فوکل پرسننام اور نمبر: ____

پلازہ اور کرائے کی عمارتوں میں اسکول

کراچی میں SBCA کے نوٹس عمارتوں کو گئے، اور CDA نے 2023 میں غیر موافق عمارتوں میں چلنے والے اسکولوں سے کاغذات مانگے؛ یعنی اسکول اور عمارت، دونوں کا انتظام زیرِ سوال آ سکتا ہے۔ اگر آپ پلازہ یا کرائے کی عمارت میں ہیں تو:

  • مالک یا بلڈنگ مینجمنٹ سے تحریری طور پر فائر پلان کی منظوری، کمپلیشن/فائر سرٹیفکیٹ اور مشترکہ الارم/ہائیڈرنٹ کی حالت پوچھیں، اور جواب فائل میں رکھیں۔
  • کرایہ نامے میں فائر سیفٹی کی ذمہ داری اور اخراجات دیکھیں۔
  • اوپر کی منزلوں پر چھوٹے بچوں اور خصوصی ضروریات والے طلبہ کے معاون انخلا کا منصوبہ پہلے سے بنائیں۔
  • اسکول کے اندر جو آپ کے اختیار میں ہے (الارم، ایکسٹنگوئشر، راستے، ڈرل، تربیت) مالک کے جواب کا انتظار کیے بغیر مکمل کریں۔

مالک اور کرایہ دار میں قانونی ذمہ داری کی تقسیم ہم نے کسی مستند ذریعے سے تصدیق نہیں کی؛ وکیل سے مشورہ لیں۔ ساختی حفاظت کے لیے:پنجاب بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ گائیڈ

اب کیا کریں؟ (عملی اقدامات)

  1. اپنا حکم ڈاؤن لوڈ کریں۔ سندھ میں DIRPI، اسلام آباد میں PEIRA، KP میں PSRA پورٹل؛ تاریخ لکھ کر فائل میں رکھیں۔
  2. واک تھرو آڈٹ کریں۔ چیک لسٹ لے کر ہر منزل، سیڑھی اور دروازہ دیکھیں۔ بند یا تالا لگے راستے سب سے پہلے ٹھیک کریں؛ اس میں تقریباً کوئی خرچ نہیں آتا۔
  3. آلات اور بجلی کی جانچ کروائیں۔ ایکسٹنگوئشر، الارم، ڈیٹیکٹر، وائرنگ؛ تحریری رپورٹیں لیں۔
  4. ڈرل کریں اور لکھیں۔ تاریخ، انخلا میں لگی مدت، مشاہدات اور اصلاحی اقدام درج کریں۔
  5. عملے کی تربیت کریں۔ تدریسی اور غیر تدریسی، دونوں کی؛ دستیاب اداروں (مثلاً سول ڈیفنس) سے پوچھیں۔
  6. اسلام آباد میں CDA کو درخواست دیں یا اس کی حالت معلوم کریں اور رسید محفوظ رکھیں؛ سندھ اور KP میں ریگولیٹر سے مطلوبہ سرٹیفکیٹ پوچھیں۔
  7. ایک سے زیادہ کیمپس ہوں تو تینوں میں سب سے سخت تقاضا سب پر لاگو کرنا انتظام آسان بنا سکتا ہے (ہماری تجویز)۔
  8. والدین کو آگاہ کریں۔ ڈرل اور حفاظتی انتظامات کی مختصر اطلاع اعتماد بڑھاتی ہے۔ بچوں کے تحفظ کے وسیع موضوع پر:بچوں کے تحفظ کی گائیڈ

اکثر پوچھے گئے سوالات

1. کیا یہ قواعد پنجاب کے نجی اسکولوں پر بھی لاگو ہیں؟

یہ مضمون سندھ، اسلام آباد اور KP پر ہے۔ ڈیلی ٹائمز (23 جنوری 2026) کے مطابق پنجاب حکومت نے پلازوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو دو ہفتوں میں فائر SOPs نافذ کرنے کو کہا تھا۔ ہم نے اس کی مزید تصدیق نہیں کی، اس لیے ڈسٹرکٹ CEO ایجوکیشن آفس سے تازہ ہدایات لیں۔

2. ڈرل سال میں کتنی بار کرنی ہے؟

سندھ میں زیادہ تر رپورٹس "کم از کم دو بار" کہتی ہیں، ایک ذریعہ "تین بار"۔ اسلام آباد اور KP کی تعداد کا تصدیق شدہ ذکر ہمیں نہیں ملا۔ اپنے ریگولیٹر سے تصدیق کریں۔

3. کیا فائر NOC نہ ہونے پر اسکول سیل ہو سکتا ہے؟

اسلام آباد میں PEIRA نے مہلت کے بعد سیلنگ کی وارننگ دی اور CES نے ستمبر میں 92 احاطے سیل کیے (اسکولوں کا ذکر نہیں)۔ سندھ میں SBCA نے جنوری میں عمارتیں سیل کرنے کی وارننگ دی۔ خطرہ حقیقی ہے، مگر کسی اسکول کے سیل ہونے کی تصدیق شدہ خبر ہمیں نہیں ملی۔ نوٹس ملے تو فوراً تحریری جواب دیں۔

4. کرائے کی عمارت میں ذمہ داری کس کی ہے؟

یہ کرایہ نامے اور قانونی رائے پر منحصر ہے، اور ہم نے اسے تصدیق نہیں کیا۔ مالک سے تحریری معلومات لیں اور اسکول کے اندر کے انتظامات بہرحال مکمل کریں۔

5. فائر سرٹیفکیٹ/NOC کی فیس اور وقت کتنا ہے؟

ہمیں کوئی قابلِ اعتماد سرکاری ذریعہ نہیں ملا۔ ایجنٹ یا ویب سائٹ کی بتائی ہوئی رقم کو تصدیق شدہ نہ سمجھیں؛ متعلقہ دفتر سے خود پوچھیں۔

6. کیا چھوٹے یا کم فیس والے اسکولوں کو استثنا ہے؟

سندھ کا مراسلہ "تمام نجی طور پر چلنے والے اسکولوں" کے لیے بتایا گیا ہے اور PEIRA کا حکم اسلام آباد کے "تمام نجی تعلیمی اداروں" کے لیے۔ رپورٹس میں سائز کی بنیاد پر استثنا کا ذکر نہیں، مگر ہم نے مکمل متن نہیں دیکھا۔ پوچھے بغیر استثنا فرض نہ کریں۔

نتیجہ

گل پلازہ اور پمز کے بعد فائر سیفٹی مشورہ نہیں رہی؛ ریگولیٹرز اسے ریکارڈ، سرٹیفکیٹ اور مہلت کے ساتھ مانگ رہے ہیں۔ تفصیل تینوں جگہ مختلف ہے اور کئی باتیں غیر واضح ہیں، مگر بنیادی کام ایک جیسے ہیں: راستے کھلے، آلات چالو، ڈرل اور تربیت، اور ہر چیز کا ریکارڈ۔ یہ سب آپ آج شروع کر سکتے ہیں۔

Skoolyst بلاگ پر ہم نجی اسکول مالکان اور پرنسپلز کے لیے "اسکول سیفٹی اور تعمیل" سیریز لکھ رہے ہیں، جس میں ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری (اسکول وین اور ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری) اور ہنگامی واقعے کے بعد کے قانونی سوالات (واقعے کے بعد مالک کی قانونی ذمہ داری) جیسے موضوعات شامل ہیں یا زیرِ غور ہیں۔ آپ فالو کرنا چاہیں تو بلاگ بک مارک کر لیں۔ اگر آپ کے پاس KP کے سرکلر کے متن یا CDA کے طریقہ کار کی تصدیق شدہ معلومات ہو تو بتائیں؛ ہم مضمون اپ ڈیٹ کریں گے۔

ڈس کلیمر: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے، قانونی مشورہ نہیں۔ قواعد اور مہلتیں بدل سکتی ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ریگولیٹر یا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس سے اور ضرورت ہو تو کسی مستند وکیل یا فائر سیفٹی ماہر سے تصدیق کریں۔

Comments (0)

Be the first to comment.

Leave a comment