School Management

کاہنہ کے بعد اسکول کی عمارت کو چاہیے "فٹنس سرٹیفکیٹ": پنجاب کے نجی اسکول مالکان کے لیے مکمل رہنما (2026)

کاہنہ کے بعد اسکول کی عمارت کو چاہیے "فٹنس سرٹیفکیٹ": پنجاب کے نجی اسکول مالکان کے لیے مکمل رہنما (2026)

اسکول کی عمارت صرف اینٹ اور سریا نہیں ہوتی۔ ہر صبح والدین اپنے بچے اس کی چھت تلے چھوڑ کر جاتے ہیں، اور یہ اعتماد کا سودا ہے۔

30 جون 2026 کی شام لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی اور 14 بچے جاں بحق ہو گئے۔ کئی گھروں کا سب کچھ ایک لمحے میں چھن گیا۔ ہم اس سانحے کا ذکر خوف پھیلانے کے لیے نہیں کر رہے۔ ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ اس کے بعد پنجاب میں قواعد بدل گئے ہیں، اور ان کا اثر ہر نجی اسکول، اکیڈمی اور ٹیوشن سینٹر پر پڑتا ہے۔

بات مختصر یہ ہے:

اب پنجاب میں بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ (Building Fitness Certificate) کے بغیر کسی نجی اسکول کی رجسٹریشن یا تجدید نہیں ہوگی۔

اس گائیڈ میں آپ جانیں گے کہ سرٹیفکیٹ کون دے سکتا ہے، انجینئر کی تصدیق کیسے کریں، معائنے میں کیا دیکھا جاتا ہے، اور نوٹس ملنے یا اسکول سیل ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے۔

متعلقہ مضمون: رجسٹریشن کے طریقۂ کار اور فیس کے قواعد کے لیے Skoolyst کی [نجی اسکول فیس اور رجسٹریشن رول بُک — اندرونی لنک یہاں لگائیں] پڑھیں۔

ایک نظر میں

  • کیا بدلا؟ 17 جولائی 2026 کے SED نوٹیفکیشن کے مطابق، PEC سے رجسٹرڈ سول انجینئر یا انجینئرنگ فرم کا جاری کردہ درست سرٹیفکیٹ رجسٹریشن/تجدید کے لیے لازمی ہے۔ C&W اب یہ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر رہا۔ اے آر وائی کے مطابق ٹیوشن سینٹرز بھی اس میں شامل ہیں۔
  • آپ ابھی کیا کریں؟ PEC کے آفیشل پورٹل پر انجینئر کی تصدیق کریں، 2 سے 3 کوٹیشن لیں، سرٹیفکیٹ کے ساتھ تحریری انسپیکشن رپورٹ لیں، ہر کیمپس کا الگ سرٹیفکیٹ بنوائیں، اور مدتِ میعاد اور ڈیڈ لائن ضلعی سی ای او (ایجوکیشن) دفتر سے تحریری طور پر پوچھیں۔
  • اعداد و شمار میں احتیاط: نوٹیفکیشن کا نمبر، دستخط کنندہ، مدتِ میعاد اور ڈیڈ لائن ہمیں کسی شائع شدہ ذریعے میں نہیں ملی۔ "744" کا عدد بھی دو مختلف معاملات میں آیا ہے (تفصیل نیچے)۔

کاہنہ کے بعد کیا بدلا، اور یہ آپ پر کیوں لاگو ہوتا ہے؟

30 جون کا سانحہ: تحقیقات میں کیا سامنے آیا

  • چھت کی نوعیت: ڈان اور دیگر اخبارات کے مطابق کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق چھت T-R girder طرز کی تھی۔
  • ابتدائی رپورٹ: وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی رپورٹ (24NewsHD، 2 جولائی؛ اے پی پی، 3 جولائی) کے مطابق کمزور چھت پر مٹی اور ملبہ ڈالا گیا تھا اور اوپر مزدور کام کر رہے تھے۔ رپورٹ میں شامل (نام ظاہر نہ کیے گئے) ماہرین کی رائے تھی کہ بچوں کی موجودگی میں T-R girder کی کمزور چھت پر مٹی ڈالنا "انتہائی غیر ذمہ دارانہ" تھا اور ڈھانچہ یہ اضافی وزن برداشت نہ کر سکا۔ اے پی پی کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اب تک کسی سرکاری اہلکار کی غفلت ثابت نہیں ہوئی۔
  • قانونی کارروائی: پولیس نے اسے "مجرمانہ غفلت" قرار دیا۔ نشتر زون کے انفورسمنٹ انسپکٹر کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوئی اور ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پانچ افراد گرفتار ہوئے (دی نیشن، یکم جولائی)۔ اے پی پی (3 جولائی) کے مطابق ان میں مکان کا مالک اور اس کا بھائی شامل ہیں۔ بعد میں ٹیچر کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا (دنیا نیوز)۔
  • رجسٹریشن کا خلا: ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کی انکوائری کے مطابق یہ سینٹر ایک گھر میں قائم تھا اور کسی سرکاری ادارے میں رجسٹرڈ نہیں تھا۔ سی ای او ایجوکیشن لاہور طارق محمود کے مطابق گھروں میں قائم ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن کا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہی نہیں تھا (دنیا نیوز)۔
  • دوسرا واقعہ: دو دن بعد، 2 جولائی کو باغبانپورہ میں ایک نجی اسکول کی زیرِ تعمیر چھت کا حصہ گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا۔ اس وقت وہاں سمر کیمپ چل رہا تھا (پرو پاکستانی، دی نیشن)۔ بعد میں وزیر تعلیم نے کہا کہ تحقیقات کے مطابق بچہ عمارت کے اندر نہیں بلکہ قریبی گلی میں تھا۔ یعنی اس واقعے کی تفصیلات پر رپورٹس مختلف ہیں۔

ہماری معلومات کے مطابق (اکتوبر 2026 کے آغاز تک) کاہنہ کیس میں عدالت کے کسی حتمی فیصلے کی کوئی مستند خبر سامنے نہیں آئی۔

مالکان کے لیے سبق: دونوں حادثات میں عمارت پر جاری تعمیر یا مرمت اور اضافی وزن بنیادی عوامل کے طور پر سامنے آئے۔ اگر آپ کی عمارت پر کوئی کام چل رہا ہے تو بچوں کو اس حصے کے نیچے ہرگز نہ بٹھائیں۔

17 جولائی کا نوٹیفکیشن: آسان الفاظ میں

پہلے کیا تھا؟ مئی 2026 میں SED کی ہدایت تھی کہ سرکاری اور نجی اسکول C&W ڈیپارٹمنٹ سے فٹنس سرٹیفکیٹ لیں۔ جولائی کے آغاز میں C&W نے یہ ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا۔ اس کا موقف تھا کہ بہت سے نجی اسکول کرائے کی، رہائشی یا مخلوط استعمال والی عمارتوں میں ہیں جن کے نہ منظور شدہ ڈیزائن ہیں نہ مکمل تکنیکی ریکارڈ۔ اس نے تجویز دی کہ تھرڈ پارٹی انجینئرنگ کنسلٹنٹس رکھے جائیں (ایکسپریس ٹریبیون، پاکستان ٹوڈے، 7 جولائی)۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ابتدا میں لاہور کے تقریباً 3,500 نجی اسکولوں کی تصدیق کا منصوبہ تھا، جسے بعد میں پنجاب کے تمام 43 اضلاع تک بڑھانا تھا۔

پھر کیا ہوا؟ 17 جولائی 2026 کو SED نے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ دی نیشن، دنیا نیوز، پرو پاکستانی اور اے آر وائی کی رپورٹس کے مطابق اس کے اہم نکات یہ ہیں:

  • درست (valid) بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ کسی بھی نجی اسکول کی رجسٹریشن کے لیے لازمی ہے۔ روزنامہ اوصاف کے مطابق یہ شرط تجدید پر بھی لاگو ہے۔
  • سرٹیفکیٹ PEC سے رجسٹرڈ سول انجینئر یا انجینئرنگ فرم سے لیا جا سکتا ہے۔
  • تمام ڈپٹی کمشنرز اور سی ای اوز (ایجوکیشن) کو "بغیر کسی استثنا" عمل درآمد کی ہدایت ہے۔
  • پہلے سے چلنے والے اداروں کو بھی عمارت کی مضبوطی اور حفاظت کے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت ہے۔
  • سی ای او ایجوکیشن لاہور طارق محمود کے مطابق فٹنس سرٹیفکیٹ "لازمی ہے" اور ادارے اسے "فوری" حاصل کریں (پرو پاکستانی، 18 جولائی)۔
  • وزیر تعلیم رانا سکندر حیات پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر اسکول یا اکیڈمی سیل کر دی جائے گی (24NewsHD، جولائی کا آغاز)۔

ابھی کیا واضح نہیں؟ ہم نے جتنے ذرائع دیکھے، ان میں کسی نے نوٹیفکیشن کا نمبر، دستخط کنندہ، مکمل متن، کوئی ڈیڈ لائن، یا سرٹیفکیٹ کی مدتِ میعاد شائع نہیں کی۔ ایک اختلاف بھی ہے: کچھ رپورٹس کے مطابق اب صرف PEC انجینئر سرٹیفکیٹ دیں گے کیونکہ C&W نے اجرا بند کر دیا، جبکہ نجی اسکولوں کی تنظیم APPSMA کی پریس ریلیز کہتی ہے کہ سرٹیفکیٹ C&W یا PEC انجینئر، دونوں سے لیا جا سکتا ہے۔

ضروری قدم: یہ تمام تفصیلات اپنے ضلع کے سی ای او (ایجوکیشن) دفتر سے تحریری طور پر معلوم کریں۔

لابی کے دعوے کے بارے میں: APPSMA کا کہنا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن 5 جنوری 2024 کی ایک سابقہ پالیسی کی "توثیق" ہے، اور یہ ریلیف اس کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک تنظیم کا اپنا دعویٰ ہے۔ 2024 کا کوئی سرکاری حکم ہمیں دستیاب ذرائع میں نہیں ملا، اس لیے اسے تصدیق شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

سرٹیفکیٹ کون دے سکتا ہے؟

دو راستے: C&W یا PEC انجینئر

  • C&W ڈیپارٹمنٹ: رپورٹس کے مطابق اس نے نجی اسکولوں کو سرٹیفکیٹ جاری کرنا بند کر دیا ہے۔ اگر آپ کے ضلع میں اب بھی C&W کا حوالہ دیا جا رہا ہو (مثلاً وہاڑی DEA کا 3 جولائی کا خط، جو صرف ثانوی ویب سائٹس پر ملا)، تو سی ای او دفتر سے موجودہ پوزیشن معلوم کریں۔
  • PEC سے رجسٹرڈ سول انجینئر یا فرم: 17 جولائی کے بعد عملی طور پر یہی سب سے بڑا راستہ ہے۔

RE اور PE میں فرق: PEC کے مطابق Registered Engineer (RE) اور Professional Engineer (PE) دو الگ درجے ہیں۔ PE بننے کے لیے تجربہ اور امتحان درکار ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق نوٹیفکیشن میں RE یا PE کی کوئی شرط درج نہیں۔

ہمارا مشورہ: جہاں ممکن ہو، سول/اسٹرکچرل تجربہ رکھنے والے PE یا PEC میں رجسٹرڈ کنسلٹنگ فرم کو ترجیح دیں۔ آپ کے بچوں کی حفاظت اسی ایک دستخط پر ٹکی ہے۔

انجینئر کی رجسٹریشن کیسے چیک کریں؟ (مرحلہ وار)

  1. انجینئر سے اس کا PEC رجسٹریشن نمبر، شعبہ (Civil) اور CNIC کی کاپی لیں۔
  2. PEC کی سرکاری ویب سائٹ (pec.org.pk) پر Verification Portal کھولیں اور Engineer Verification منتخب کریں۔
  3. شعبہ Civil منتخب کریں، رجسٹریشن نمبر درج کریں اور کیپچا پُر کریں۔
  4. نتیجے میں آنے والا نام، شعبہ اور رجسٹریشن کی حیثیت انجینئر کے کاغذات سے ملائیں۔ اگر کوئی ریکارڈ نہ آئے تو آگے نہ بڑھیں۔
  5. اگر فرم سرٹیفکیٹ دے رہی ہے تو اسی پورٹل پر Consultant Firm Verification سے فرم کی تصدیق کریں۔
  6. تصدیقی صفحے کا اسکرین شاٹ یا پرنٹ اپنی کمپلائنس فائل میں رکھیں۔
  7. تجربے، شعبے اور علاقے کے لحاظ سے انجینئر تلاش کرنے کے لیے PEC کا پلیٹ فارم hireengr.pec.org.pk بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دھوکے کی نشانیاں 🚩

  • "گھر بیٹھے سرٹیفکیٹ" کی پیشکش
  • عمارت دیکھے بغیر دستخط
  • PEC نمبر بتانے سے انکار
  • بغیر رسید نقد ادائیگی پر اصرار

یاد رکھیں: جعلی سرٹیفکیٹ کاغذ پر تو کام چلا دیتا ہے، مگر عمارت کو محفوظ نہیں بناتا۔ حادثے کی صورت میں قانونی ذمہ داری بھی آپ ہی پر آتی ہے۔

فیس کتنی ہوگی؟

ہمیں پنجاب میں اس معائنے یا سرٹیفکیٹ کی کوئی سرکاری یا مستند فیس رینج نہیں ملی۔ لاگت عمارت کے رقبے، منزلوں، چھت کی قسم اور ٹیسٹنگ کی ضرورت پر منحصر ہے۔ کم از کم 2 سے 3 انجینئرز یا فرموں سے تحریری کوٹیشن لیں، اور پوچھیں کہ قیمت میں کیا شامل ہے: سائٹ وزٹ، تحریری رپورٹ، تصاویر اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ معائنہ۔

معائنے میں کیا دیکھا جاتا ہے؟

کوئی سرکاری چیک لسٹ شائع نہیں ہوئی۔ نیچے دیے گئے نکات C&W کی تجاویز (مثلاً destructive اور non-destructive testing) اور عام انجینئرنگ طریقۂ کار پر مبنی عمومی رہنمائی ہیں۔

چھت کی قسم

  • T-R girder / ٹی آئرن چھت: پرانی عمارتوں میں عام ہے۔ گارڈرز میں زنگ، جھکاؤ (sagging)، اینٹوں کی ڈھیلی چنائی اور نمی کو غور سے دیکھا جاتا ہے۔ کاہنہ کی چھت اسی طرز کی بتائی گئی ہے۔
  • RCC (سیمنٹ سریے والی) چھت: دراڑیں، سریے کا زنگ لگ کر نظر آنا (spalling) اور سیپیج دیکھے جاتے ہیں۔

دیگر اہم نکات

  • سیپیج اور نمی: خاص طور پر مون سون کے بعد۔ پانی چھت اور دیواروں کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔
  • دراڑیں: دیواروں، بیم اور کالم میں۔ ترچھی یا چوڑی ہوتی دراڑیں خطرے کی علامت ہیں۔
  • وزن (Load): چھت پر پانی کی ٹنکیاں، سولر پلیٹس، جنریٹر، ملبہ یا اضافی منزل۔ رہائشی عمارت کلاس روم کے حساب سے کتنا وزن اٹھا رہی ہے؟
  • جاری تعمیر یا مرمت: کیا بچوں کے اوپر یا ساتھ والے حصے میں کام ہو رہا ہے؟
  • سیڑھیاں، ریلنگ اور راستے: چوڑائی، مضبوطی اور ہنگامی صورت میں باہر نکلنے کا راستہ۔
  • باؤنڈری وال اور پیراپٹ: جھکی ہوئی یا کمزور دیواریں۔
  • ریکارڈ: منظور شدہ نقشہ، تعمیر کا سال اور پہلے کی مرمت کا ریکارڈ۔ C&W نے نشاندہی کی تھی کہ بہت سی عمارتوں کے نقشے اور اسٹرکچرل ریکارڈ موجود ہی نہیں۔

پرو ٹِپ: صرف سرٹیفکیٹ پر اکتفا نہ کریں۔ تصاویر کے ساتھ تحریری انسپیکشن رپورٹ بھی لیں جس میں سفارش کردہ مرمت درج ہو۔ کل کوئی سوال اٹھا تو یہی رپورٹ آپ کا بہترین ثبوت ہوگی۔

اگر عمارت کرائے کی ہے: مالکِ مکان اور کرایہ دار کی ذمہ داری

C&W کے مطابق بہت سے نجی اسکول کرائے کی عمارتوں میں ہیں۔ ہمیں پنجاب حکومت کی کوئی ایسی ہدایت نہیں ملی جو بتائے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ لینا مالکِ مکان کی ذمہ داری ہے یا کرایہ دار کی۔ رجسٹریشن اسکول کی ہوتی ہے، اس لیے عملی طور پر ذمہ داری اسکول آپریٹر پر آتی ہے۔

⚠️ نیچے کی تجاویز عمومی رہنمائی ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ معاہدہ کرنے سے پہلے کسی وکیل سے مشورہ ضرور کریں۔

کرایہ نامے میں ان شقوں پر غور کریں:

  • اسٹرکچرل مرمت: چھت، بیم، کالم اور بنیاد جیسی بڑی مرمت مالکِ مکان کی ذمہ داری ہو، اور وہ طے شدہ مدت میں کرائے۔
  • معائنے کی اجازت: اسکول کو PEC انجینئر سے معائنے کی پوری رسائی ہو۔
  • سرٹیفکیٹ میں تعاون: نقشہ، تعمیر کا ریکارڈ اور ملکیت کے کاغذات فراہم کرنا مالکِ مکان کے ذمے ہو۔
  • تعمیر پر پابندی: اسکول کے اوقات میں چھت یا اوپر کی منزل پر کوئی تعمیر نہ ہو۔ کاہنہ کا سبق یہی ہے۔
  • خروج کی شق: عمارت ان فِٹ قرار پائے یا سیل ہو جائے اور مالکِ مکان مرمت نہ کرائے تو اسکول بغیر جرمانے کے معاہدہ ختم کر سکے اور ایڈوانس واپس ہو۔
  • لاگت کی تقسیم: معائنے کی فیس کون دے گا، یہ پہلے سے لکھ لیں۔

ریڈ نوٹس ملا یا اسکول سیل ہو گیا؟ اب کیا کریں

پہلے یہ سمجھ لیں کہ اعداد و شمار میں کچھ ابہام ہے:

  • ڈان (5 جولائی) کے مطابق ایک ہی دن میں 744 اداروں کو رجسٹریشن کے نوٹس دیے گئے، جن میں تین دن کی مہلت تھی اور جرمانہ 3 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک ہو سکتا تھا (پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1984 کی دفعہ 11)۔ پرو پاکستانی اور ایکسپریس ٹریبیون نے بھی 744 کو "رجسٹریشن مکمل کرنے کی حتمی وارننگ" بتایا۔
  • ایکسپریس ٹریبیون اور پرو پاکستانی (8 جولائی) نے "سرکاری ذرائع" کے حوالے سے بتایا کہ SED نے بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر صوبے بھر میں 167 اسکول اور اکیڈمیاں اسٹرکچرل طور پر خطرناک قرار دے کر سیل کیں، اور 744 کو مرمت کے لیے "ریڈ نوٹس" دیے گئے، جن میں انتباہ تھا کہ اسی مہینے مرمت شروع نہ کرنے پر فوری سیلنگ ہوگی۔
  • اسی دن ایکسپریس ٹریبیون کی ایک الگ خبر میں SED کے ایک اہلکار کے حوالے سے 744 اسکولوں کو رجسٹریشن مکمل کرنے کی حتمی وارننگ کا ذکر تھا (اور لاہور DEA کی جانب سے 213 اسکولوں کو سیل کرنے کی سفارش کا، جبکہ 30 پہلے ہی سیل ہو چکے تھے)۔

دونوں جگہ ایک ہی عدد (744) آنا اس طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ دو الگ معاملات آپس میں گڈمڈ ہو گئے ہیں۔

اس لیے اپنا نوٹس غور سے پڑھیں: وہ رجسٹریشن کا ہے یا عمارت کی حفاظت کا؟ دونوں کا حل الگ ہے۔

نوٹس ملنے پر 7 قدم

  1. گھبرائیں نہیں۔ نوٹس کی تاریخ اور مہلت نوٹ کریں۔ رجسٹریشن کے نوٹسز میں مہلت تین دن جتنی کم بھی رہی ہے۔
  2. سیل شدہ عمارت میں خود داخل ہونے یا سیل توڑنے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔
  3. فوراً PEC سے رجسٹرڈ انجینئر سے معائنہ کرائیں اور تحریری رپورٹ لیں کہ کون سی مرمت درکار ہے۔
  4. مرمت مکمل کرائیں اور تصاویر، بل اور انجینئر کی تصدیق محفوظ رکھیں۔
  5. ضلعی سی ای او (ایجوکیشن) / DEA دفتر میں تحریری درخواست جمع کرائیں، جس کے ساتھ فٹنس سرٹیفکیٹ، انجینئر کی PEC تصدیق اور مرمت کا ثبوت ہو۔ رسید ضرور لیں۔
  6. حکام کے مطابق سیل شدہ عمارت تب تک بند رہے گی جب تک مرمت یا دوبارہ تعمیر مکمل ہو کر "متعلقہ حکام" سے تصدیق شدہ نہ ہو جائے۔ ڈی سیلنگ کا کوئی باقاعدہ سرکاری طریقۂ کار یا اپیل فورم ہمیں شائع شدہ نہیں ملا، اس لیے اپنے ضلع کا طریقہ سی ای او دفتر سے معلوم کریں۔
  7. والدین کو شفاف انداز میں بتائیں کہ کیا ہوا، کیا اقدامات ہو رہے ہیں اور متبادل انتظام کیا ہے۔ اعتماد اسی سے بحال ہوتا ہے۔

اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز چلانے والوں کے لیے

خاص نوٹ

  • اے آر وائی نیوز کے مطابق نئی پالیسی میں ٹیوشن سینٹرز بھی شامل ہیں، اور ان کی رجسٹریشن بھی درست فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر مکمل نہیں ہوگی۔
  • ڈان (4 جولائی) کے مطابق وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لاہور کی 760 غیر رجسٹرڈ ٹیوشن اکیڈمیوں پر پابندی کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام اکیڈمیاں ستمبر سے پہلے فٹنس سرٹیفکیٹ اور دیگر منظوریاں حاصل کریں۔
  • تمام ٹیوشن سینٹرز پر پابندی نہیں لگی۔ وزیر نے جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ کارروائی صرف ان غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کے خلاف ہے جن کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں۔ ان کے مطابق ٹیوشن اکیڈمیوں کی رجسٹریشن متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔
  • ستمبر 2026 کی رپورٹس (پرو پاکستانی، اے آر وائی) کے مطابق پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ایکٹ 2026 میں ترمیم کے ذریعے گھروں میں چلنے والے ٹیوشن سینٹرز اور محلے کی اکیڈمیوں کو "نجی تعلیمی ادارہ" تسلیم کیا گیا ہے، اور ان پر پراپرٹی ٹیکس اور کمرشل یوٹیلیٹی ریٹ کا اطلاق رپورٹ ہوا ہے۔ پرو پاکستانی (16 ستمبر) کے مطابق آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز کالجز ایسوسی ایشن نے اس ترمیم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

عملی مشورہ: اگر آپ گھر کے کسی کمرے میں بھی 15 یا 20 بچوں کو پڑھاتے ہیں تو اس کمرے کی چھت کا معائنہ کرائیں۔ کاہنہ کا سینٹر بھی ایک گھر ہی میں تھا۔

ملٹی کیمپس آپریٹرز: ہر برانچ کا الگ حساب

  • ہر کیمپس کا سرٹیفکیٹ الگ ہونا چاہیے۔ ایک تعلیمی ویب سائٹ کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کی ہدایات میں صاف کہا گیا ہے کہ ایک کیمپس کا BFC دوسرے کیمپس کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ ہم نے یہ ہدایت PEF کے اصل دستاویز سے تصدیق نہیں کی، لیکن SED کے لیے بھی یہی محفوظ طریقہ ہے۔
  • ایک سادہ ٹریکر بنائیں، جس میں ہر برانچ کے یہ کالم ہوں: پتہ، عمارت ذاتی ہے یا کرائے کی، چھت کی قسم، انجینئر کا نام اور PEC نمبر، معائنے کی تاریخ، سرٹیفکیٹ کی تاریخ، سفارش کردہ مرمت اور اس کی حیثیت، اگلے معائنے کی تاریخ۔
  • ایک مرکزی کمپلائنس انچارج مقرر کریں جو ہر سہ ماہی ٹریکر چیک کرے۔
  • مون سون سے پہلے (مئی/جون) تمام برانچوں کا اندرونی معائنہ معمول بنا لیں۔

مالکان کے لیے 12 نکاتی چیک لسٹ (پرنٹ کر کے رکھیں)

  1. ☐ اپنے ضلع کے سی ای او (ایجوکیشن) / DEA دفتر سے تحریری طور پر پوچھیں: سرٹیفکیٹ کا فارمیٹ، مدتِ میعاد اور ڈیڈ لائن کیا ہے؟
  2. ☐ عمارت کے کاغذات جمع کریں: ملکیت یا کرایہ نامہ، نقشہ (اگر ہو)، تعمیر کا سال، پرانی مرمت کا ریکارڈ۔
  3. ☐ 2 سے 3 PEC انجینئرز یا فرموں سے تحریری کوٹیشن لیں۔
  4. ☐ ہر انجینئر کا PEC Verification Portal پر نمبر چیک کریں اور اسکرین شاٹ محفوظ کریں۔
  5. ☐ معائنے کے دن چھت، سیڑھیاں، باؤنڈری وال اور سیپیج والے حصے دکھائیں۔ کچھ نہ چھپائیں۔
  6. ☐ تحریری رپورٹ اور تصاویر لیں، صرف سرٹیفکیٹ پر بات ختم نہ کریں۔
  7. ☐ رپورٹ میں مرمت کی سفارش ہو تو پہلے مرمت کرائیں، پھر سرٹیفکیٹ لیں۔
  8. ☐ چھت سے غیر ضروری وزن ہٹائیں: ملبہ، پرانا سامان، اضافی ٹنکیاں۔
  9. ☐ اسکول کے اوقات میں عمارت پر ہر قسم کی تعمیر یا مرمت ممنوع کر دیں۔
  10. ☐ سرٹیفکیٹ کی کاپی رجسٹریشن یا تجدید کی فائل میں لگائیں اور جمع کرانے کی رسید لیں۔
  11. ☐ ہر کیمپس کے لیے الگ سرٹیفکیٹ اور ٹریکر رکھیں۔
  12. ☐ اگلے معائنے کی تاریخ کیلنڈر میں درج کریں (کم از کم سالانہ، اور ہر بڑی تعمیر یا مون سون کے بعد)۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

1. کیا پہلے سے رجسٹرڈ اسکول کو بھی نیا سرٹیفکیٹ چاہیے؟
رپورٹس کے مطابق یہ شرط رجسٹریشن کی تجدید پر بھی لاگو ہے، اور موجودہ اداروں کو بھی عمارت کی حفاظت کے تقاضے پورے کرنے کی ہدایت ہے۔ اپنا اسٹیٹس سی ای او دفتر سے کنفرم کریں۔

2. سرٹیفکیٹ کتنے عرصے کے لیے کارآمد ہوتا ہے؟
نوٹیفکیشن میں مدتِ میعاد کی کوئی تفصیل رپورٹ نہیں ہوئی۔ ستمبر 2026 میں رجسٹریشن کی مدت چار سال کرنے کی ایک تجویز زیرِ غور تھی، لیکن وہ ابھی منظور نہیں ہوئی۔ ضلعی دفتر سے تصدیق کریں۔ حفاظت کے نقطۂ نظر سے کم از کم سالانہ معائنہ بہتر ہے۔

3. کیا کوئی بھی انجینئر سرٹیفکیٹ دے سکتا ہے؟
نہیں۔ انجینئر PEC سے رجسٹرڈ سول انجینئر یا PEC رجسٹرڈ فرم ہونا ضروری ہے۔ پورٹل پر تصدیق خود کریں۔

4. کیا C&W اب بھی سرٹیفکیٹ دیتا ہے؟
دی نیشن اور دنیا نیوز کے مطابق C&W نے اجرا بند کر دیا ہے، جبکہ APPSMA کا کہنا ہے کہ دونوں راستے کھلے ہیں۔ اپنے ضلع سے پوچھ لیں۔

5. فیس کتنی ہے؟
کوئی سرکاری ریٹ شائع نہیں ہوا۔ 2 سے 3 کوٹیشن لیں اور رسید کے بغیر ادائیگی نہ کریں۔

6. میری اکیڈمی گھر میں ہے، کیا مجھ پر بھی یہ لاگو ہے؟
اے آر وائی کے مطابق ٹیوشن سینٹرز بھی اس پالیسی میں شامل ہیں، اور ستمبر کی قانونی ترمیم گھروں میں چلنے والے سینٹرز کو بھی "تعلیمی ادارہ" تسلیم کرتی ہے۔ رجسٹریشن کے لیے اپنے ڈپٹی کمشنر یا سی ای او دفتر سے رجوع کریں۔

7. رجسٹریشن کے بغیر اسکول چلانے پر کیا ہو سکتا ہے؟
ڈان کے مطابق آرڈیننس 1984 کی دفعہ 11 کے تحت 3 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، اور ادارہ سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

آخری بات: سرٹیفکیٹ سے بڑھ کر

بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ کو محض ایک اور سرکاری کاغذ نہ سمجھیں۔ یہ والدین کو یقین دلانے کا ذریعہ ہے کہ اس عمارت کی چھت ان کے بچوں کے لیے محفوظ ہے۔ جو مالکان آج ایمانداری سے معائنہ کراتے ہیں، کل والدین کا اعتماد سب سے زیادہ انہی کو ملے گا۔

Skoolyst اسکولوں اور خاندانوں کو جوڑنے والا ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم ہے، اور ہم اسکول مالکان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارا مقصد ہے کہ آپ کو قواعد کی درست اور قابلِ اعتماد معلومات آسان زبان میں ملیں۔

📌 Skoolyst بلاگ کو فالو کریں۔ ہماری سیفٹی کمپلائنس سیریز کے اگلے حصوں میں اسکول ٹرانسپورٹ، فائر سیفٹی اور کسی حادثے کی صورت میں فوری ردِعمل پر عملی گائیڈز آ رہی ہیں۔

اعلانِ دستبرداری: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے اور قانونی یا انجینئرنگ مشورہ نہیں۔ قواعد بدل سکتے ہیں، اس لیے تازہ ترین ہدایات اپنے ضلعی سی ای او (ایجوکیشن) دفتر سے حاصل کریں۔

ماخذ

  • ڈان: 30 جون، 4 جولائی، 5 جولائی 2026
  • دی نیشن: یکم، 3، 4، 18 جولائی 2026
  • 24NewsHD: 2 اور 4 جولائی 2026
  • اے پی پی: 3 جولائی 2026
  • جیو نیوز: جولائی 2026 (پولیس تحقیقات)؛ 6 جولائی 2026 (فیکٹ چیک)
  • دنیا نیوز: جولائی 2026 (تحقیقات)؛ 18 جولائی 2026
  • ایکسپریس ٹریبیون: 7 اور 8 جولائی 2026
  • پاکستان ٹوڈے: 30 جون اور 7 جولائی 2026
  • پرو پاکستانی: 2، 6، 7، 8، 18 جولائی؛ 16 اور 28 ستمبر 2026
  • اے آر وائی نیوز: جولائی اور ستمبر 2026
  • دی نیوز: 21 جولائی 2026 (APPSMA پریس ریلیز)
  • روزنامہ اوصاف: 18 جولائی 2026
  • پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC): سرکاری ویب سائٹ، FAQs اور ویری فکیشن پورٹل

Comments (0)

Be the first to comment.

Leave a comment